بھٹکل:30/ اکتوبر (ایس اؤنیوز)پسماندہ ذات میں اصلی پسماندہ اور پسماندہ کی تفریق یا تقسیم نہیں ہے، دستوری طورپر موگیر طبقہ کو حاصل حق کو بے اثر کرنے اور محروم کرنے کی مسلسل کوششیں ہورہی ہیں،کچھ مفاد پرست لوگ موگیروں کو پریشان کرنے کا جو کام کررہے ہیں ان سے باز آنے کا لکشمی سرسوتی موگیر ودیا وردھک سنگھ کے صدر کے ایم کرکی نے مطالبہ کیا۔
پیر کو پرائیویٹ ہوٹل میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے کرکی نےکہاکہ گذشتہ 26اکتوبر کو بھٹکل تعلقہ پنچایت ہال میں منعقدہ پسماندہ ذات ، طبقات کے مسائل کا حل میٹنگ میں نارائن شرور نے موگیر طبقہ پسماندہ نہیں ہے ثابت کرنے کی کوشش کرتےہوئے بے عزتی کی ہے۔ ہمارے سماج کے لوگ انہیں سمجھانے کی کوشش کرنے کے لئے آگےبڑھے ، میٹنگ میں تنازعات کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔ ہم پولس کے ساتھ میٹنگ میں امن کو برقرار رکھنےکی کوشش کی تھی ، اس دن میٹنگ میں حاضر افسران اس کے گواہ ہیں، لیکن ہمارے سماج کا ایک مخالف گروہ معاملات کو دوسرا رخ دیتے ہوئے ہمارے خلاف بے تکے اور بے بنیاد بیانات جاری کرنے کے علاوہ پولس تھانے میں جھوٹے مقدمات درج کرنےکی ناکام کوشش کی ہے۔ جس کی ہمارا موگیر سماج سخت مذمت کرتاہے۔
پسماندہ ذات سرٹیفکٹ کامعاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے، بے صبری کے ساتھ ہم فیصلے کے انتظار میں ہیں، ہم قانونی جدوجہد کے ذریعے انصاف حاصل کرنےکی کوشش میں ہیں ، ہمیں عدالت کے سوا کسی اور کے سند کی ضرورت نہیں ہے ، بار بار سماج کی بے عزتی اور ہتک کرنا ہم برداشت نہیں کریں گے۔ بھارت سرکار دستوری ترمیم قانون 1976کے تحت 27جولائی1977کو ملک بھر میں قانون کا نفاذ کرتے ہوئے 18پسماندہ طبقات، پسماندہ ذات، پسماندہ شعبے سمیت 18ذاتوں کو مرکزی حکومت کے اعلامیہ پر عزت مآب صدر ہند نے منظوری دی ہے۔ بھارت کے دستور کی دفعہ (2)341کے تحت کسی ایک ذات کو پسماندہ ذات کے طورپر شمار کرتے ہوئے صدر ہند منظوری دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی بھی ریاستی سرکار ہویا کمیشن اس کو فہرست سے بے دخل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ سال 2015میں کرناٹکا کی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق وزیر اعلیٰ دھرم سنگھ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں اترکنڑا ضلع میں رہائش اختیار کردہ موگیر طبقہ کو پسماندہ ذات مانتے ہوئے تمام سر کاری سہولیات جاری رکھنے کا فیصلہ بھی لیا گیا تھا لیکن ہمیں انصاف نہیں ملا تو کرناٹکا حکومت کے خلاف ہتک عدالت کا مقدمہ درج کئے ہیں جس پر سپریم کورٹ نے اسٹے آرڈر جاری کیا ہے، کچھ مفاد پرست قوتیں موگیر سماج کو پسماندہ ذات دینے پر اسٹے لگائے جانے کی جھوٹی تشہیر میں مصروف ہیں گویا عدالت کی بے عزتی کاکام کئے جانےکے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ نارائن دئیمنے ، جٹگا موگیر، پنڈلک ہیبلے ، انپا موگیر شرالیکر، شری دھر موگیر، ناگپا موگیر کائی کنی ، راما موگیر شرالی ، بھاسکر موگیر بیلکے ، کرشنا موگیر ، چولراج ، لکشمن موگیر وغیرہ موجود تھے۔